16 اکتوبر 2026 - 20:08
نرسنگ کمیونٹی کے مظلوم شہداء کے لئے اللہ کی رحمت کا طلبگار ہوں،  میلاد سیدہ زینب(س) کے موقع پر رہبر انقلاب کا پیغام

رہبر معظم انقلاب نے سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) کے یوم ولادت ولادت اور یوم نرس کے موقع پر ایک پیغام میں صحت کے شعبے کے ذمہ داران کو نرسنگ کمیونٹی پر خصوصی توجہ کی تلقین کی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم، حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ)، نے سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) کے یوم ولادت اور 'یوم نرس' کے موقع پر ایک پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی زینبی خواتین اور بیٹیوں کے کردار کو 'ایرانی قوم کے بے مثال دورِ بعثت' میں حیران کن قرار دیا اور 'نرسوں کے احیا کرنے والے' اور 'امید بخش' کردار اور معاشرے کی جسمانی اور روحانی صحت و سلامتی میں ان کے اہم اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے صحت کے شعبے کے ذمہ داران کو نرسنگ کمیونٹی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔

پیغام کا مکمل متن:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پانچ جمادی الاول، ہر سال، اس خاتون کی بابرکت ولادت کی یاد دلاتا ہے، جس نے پانچ پاک ہستیوں (صلوات اللہ و سلامہ علیہا و علیہم) کی محبت، تربیت اور معینت کے سائے میں پرورش پائی جو اللہ کی تخلیق میں سب سے برتر شمار ہوتے ہیں۔ زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا) کی اس نورانی مکتب میں پچاس سال سے زائد عرصے تک پرورش اور نشوونما، نے اس دور کی روشن ستارے میں شرافت اور برتری کے عناصر کا ایسا رنگا رنگ جلوہ پیش کیا جو ہمیشہ اولیائے الٰہی کی تعریف، تحسین اور فخر کا باعث رہا ہے۔ اس تابناکی کا عروج حماسۂ عاشورا میں عیاں ہؤا؛ ایک طرف دشت کربلا کے مظلوموں کے لئے بے انتہا شفقت، خیرخواہی اور صبورانہ غم خواری کرنا؛ اور دوسری طرف ثابت قدمی اور بہادری کی سب سے معزز علامت کے طور پر ابھرنا۔

اسلامی تحریک و انقلاب اسلامی کی تاریخ، شروع ہی سے، ایرانی خواتین اور بیٹیوں کی زینبی موجودگی کے مناظر سے بھری پڑی ہے۔ اس حقیقت نے قوم کے بے مثال 'دورِ بعثت' میں، ـ جو تیسرے دفاعِ مقدس کے دور میں سوم میں رقم ہؤا، ـ حیران کن کمیت اور کیفیت حاصل کر لی۔

اب اسلامی جمہوریہ ایران کی زینبی خواتین مختلف میدانوں خصوصاً شہروں اور دیہاتوں کی سڑکوں پر اپنی بھرپور موجودگی کے ساتھ، سخت جنگ کے محاذوں کے پیچھے، مقاومت و مزاحمت کی عملی تبیین و تشریح ، کی پیش رو ہیں؛ اس طرح کہ زمانے کے طاغوت جو ہمیشہ اس قوم کا دکھ، درد اور جبر کے خواہاں ہیں، اپنے آپ میں، اس عظیم لشکر کا مقابلہ کرنے کی اہلیت، نہیں دیکھتے۔

اس سرزمین کے باسیوں نے ـ جو عترت طاہرہ (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) کے محب اور دلدادہ ہیں ـ سیدہ زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا) کے یوم میلاد کو، مہربانی کے پہلو اور درد مندوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے لئے قربانی دینے کی وجہ سے، بجا طور پر 'یومِ تکریمِ نرس (نرسوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن)' قرار دیا ہے۔ کیونکہ ان اخلاقی صفات اور انسانی اقدار میں سے بہت سی صفات و اقدار اس محنت کش اور قابل قدر طبقے ـ یعنی نرسوں ـ میں نمایاں ہیں۔

نرس کا کردار، کچھ دیگر طبقات ـ جیسے طبیبوں (ڈاکٹروں)، اساتذہ اور مربیوں، علماء اور امدادی کارکنوں کے کردار، کی طرح، احیا کرنے والا اور امید بخشنے والا ہے۔ اسی لئے نرس کو فرشتۂ حمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور وہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ درد مند اور رنجیدہ افراد کی بدخُلقی اور ناصیری کے سامنے مریضوں کی تسکین و تشفّی، امید اور صحتیابی اور علاج کے اسباب فراہم کرتا/کرتی ہے اور نتیجتاً اللہ کی رحمت کے نزول کا باعث بنتا/بنتی ہے۔

البتہ مریضوں کے علاج میں نرسوں کا کردار، طبیبوں کے برعکس، مسلسل، پیہم اور صبر آزما موجودگی کا متقاضی ہے۔ اس قسم کی موجودگی کا اثر جسمانی معاملات سے بالاتر ہے اور یہ روحانی و نفسیاتی تکالیف کے لئے مرہم اور بہت سے معاملات مریضوں پر مایوسی کے غلبے کے سامنے کی رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی طرح وہ کام جو طبیبوں کے بس سے باہر ہے، اس دلسوزانہ اور ہمدردانہ کردار کے بدولت انجام پاتا ہے۔

عصر حاضر میں، جبکہ استکبار کا خبیث نیٹ ورک آزاد اور مزاحمت و مقاومت کرنے والی ثابت قدم قوموں ـ خصوصاً ایرانی قوم ـ پر ہر قسم کا ظلم اور جرم مسلط کرنے کی کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتا؛ اور ان کوششوں میں علاج اور دوا سے متعلق مختلف النوع پابندیاں لگا کر عظیم ایرانی قوم پر دکھ مسلط کرنے کی کوشش بھی شامل ہے، نرسوں پر توجہ، نرسنگ کمیونٹی کو تقویت پہنچانا، نرسوں ـ بالخصوص صحت کے سرکاری اداروں میں خدمت کے لئے وقف کر چکے/کرچکی ہیں، علم و دانش، مہارت، صلاحیت، جذبے اور نشاط، جذبے اور وقار کا تحفظ و ارتقا، معاشرے کی جسمانی اور روحانی صحت و سلامتی پر بنیادی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی لئے توقع ہے کہ صحت کے شعبے کے ذمہ داران اپنے ذمہ دارانہ رویوں کے تسلسل میں ان اہم امور کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔

میں [میلاد سیدہ زینب (سلام اللہ علیہا) اور یوم نرس کی] ان دو مناسبتوں سے ملتِ عزیز، اسلامی وطن کی فرض شناس اور پُر عزم خواتین اور بالخصوص نرس بہنوں اور بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں نرسنگ کمیونٹی کے مظلوم اور جان نثار شہداء، خصوصاً دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں اور فتنۂ دی ماہ 1404 (جنوری 2026) میں شہید ہونے والے/والی نرسوں کے لئے اللہ کی رحمت کا طلبگار ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے سرور (امام عصر عَجَّلَ اللہُ تَعَالیٰ فَرَجَہُ الشریف) کی دعا سے، ملتِ ایران کو پہلے سے زیادہ عزت اور طاقت اور ہر وہ چیز عطا فرمائے جو مکتبِ زینب (سلام اللہ علیہا) کی پیروی کے شایان شان ہو۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ‌ای

16 اکتوبر 2026ع‍

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha